Islamic Stories| ملک الموت کا افسوس اور شداد کی جنت

Islamic Stories| ملک الموت کا افسوس اور شداد کی جنت
Spread the love

 Islamic Story to boost you Faith on Allah Almighty.. Share it with your Loved ones, and drop a comment for any suggestion.

کہا جاتا ہے کہ ملک الموت نے بارگاہ رب العزت میں عرض کی اے مولائے کریم میں نے کروڑوں لوگوں کی جانیں قبض کی ہیں مگر دو جانیں ایسی ہیں کہ جنہیں قبض کرتے وقت مجھے بڑا ہی صدمہ اور افسوس ہوا ہے

میں نے تیرے حکم کی تکمیل ضرور کی مگر نہایت ہی دکھ کے ساتھ اور وہ دو ایک ماں اور ایک  اس کابیٹا تھا۔ واقعہ کچھ اس طرح ہے کہ ایک   جہاز غرق ہو گیا تھا اور ایک عورت اپنے شیر خواربچے کے ساتھ ایک تختے کا سہارا لینے میں کامیاب ہو گئی تختہ دریا میں بہہ رہا تھا اور ماں اور بیٹا اس پر سوار تھے

  اے مولا کریم اچانک تیرا حکم ہوا اور میں نے ماں کی جان اس تختہ پر نکال لی، میرے لئے پریشان کن بات یہ تھی کہ ماں مر چکی ہے اب بچے کا کیا حشر ہوگا؟

بچہ ایک ٹوٹے ہوئے تختے پر سوار ہے

اور تختہ ہر آن پانی کی لہروں کے تھپیڑے کھا رہا ہے، جو کسی وقت بھی کسی تیز لہر کی زد میں آکر الٹ سکتا ہے بچےکے لئے نہ خوراک کا انتظام ہے، نہ کسی نگران کا بندوبست ہے۔

دریا کے کنارے دھوبی کپڑے دھو رہے تھے اچانک کسی کی اس بچے پر نظر پڑی تو تختے کو کھینچ کر لائے بڑے حیران ہوئے کہ ماں مرچکی ہے بچہ بے یار ومددگار تختہ پر زندہ و سلامت موجود ہے

وہ لوگ اس بچے کو اپنے سردار کے پاس لے گئے ، سردار بے چارہ بے اولاد تھا  خوبصورت بچہ دیکھ کرسر دارکا اس پر  دل آ گیا ، اور سردار نے بچے کو اپنی نگرانی میں لیکر اسے اپنا بیٹا بنالیا

 یہ بچہ آٹھ نو سال کی عمر کا تھا-  ایک روز اپنے ساتھیوں کے ساتھ کھیل رہا تھا اتنے میں بادشاہ وقت کی سواری کی آمد کا شور اٹھا سب  بھاگ گئے مگر یہ بچہ سڑک پر اکیلا کھڑا رہا

بادشاہ کی سواری گزرگئی اس کے پیچھے اس کا عملہ پیدل آرہا تھا ان میں سے ایک سپاہی کو راستے میں سے سرمہ کی ایک پڑیا مل گئی اتفاق سے اس بچے کی نظر بہت کمزور تھی اور سرمہ کی اسے بہت ضرورت بھی تھی

لہذا اس سپاہی نے وہ سرمہ بحفاظت اپنے پاس رکھ لیا ، آنکھوں میں لگانے سے پہلے اسے خیال آیا کہ یہ سرمہ کوئی تکلیف نہ پہنچائے ، لگانے سے پہلے کسی دوسرے شخص پر آزما لینا چاہئے

قریب ہی وہ بچہ کھڑا تھا اس نے اس بچہ پر آزمانا چاہا بچے نے سرمہ اپنی آنکھوں میں لگا لیا، مگر جوں ہی سرمہ اس نے لگایا اسے زمین کی تہہ میں موجود چیزیں بھی نظر آنے لگیں

اس نے دیکھا کہ زمین کے اندر بہت سے خزانے پوشیدہ ہیں ، بچہ ہوشیار تھا اس نے چیخنا چلانا شروع کر دیا کہ سرمہ لگانے کی وجہ سے میری آنکھوں میں سخت تکلیف پیدا ہوگئی، (وہ سرمہ کی پڑیا گرا کر چلے گئے ) بچہ سرمہ کی پڑیا اٹھا کر گھر پہنچا، اور خوشی خوشی باپ کو سارا واقعہ سنایا

سردار بڑا خوش ہوا ، باپ نے کہا کہ ہمارے پاس آدمی بھی ہیں اور گدھے بھی ہیں تم سرمہ لگاؤ ، ہم تمہارے ساتھ چلتے ہیں جہاں کہیں خزانے پاؤ، ہمیں بتاؤ ہم نکال لیں گے

چنانچہ ایسا ہی ہوا بچے کے بتانے پر وہ لوگ خزانے نکالنے لگے اور تھوڑے ہی عرصے میں امیر بن گئے بچہ جوان ہوا تو اس نے پر پرزے نکالنے شروع کئے ، ان کے پاس دولت کی فراوانی ہوگئی زمین کے تمام خزانےاس کی نظروں میں تھے

اس نے آہستہ آہستہ بہت سے آدمی اپنے ساتھ ملالئے اس کے بعد تمام سرداروں کو ادھر ادھر کر دیا اور خود سردار بن گیا آخر نوبت یہاں تک پہنچی کہ اس نے بادشاہ کے ساتھ بھی ٹکر لے لی اور اسے مغلوب کر کے خود بادشاہ بن گیا۔

اس بچہ کا نام شداد تھا اور یہ وہی بچہ تھا جس کی ماں تختے پر ہی مرگئی تھی اور یہ اکیلا دریا کی لہروں کے ساتھ بہہ رہا تھا

کہتے ہیں کہ جب یہ برسراقتدار آیا تو اس نے حکم دیا کہ ایک ایسا کمال درجے کا شہر آباد کیا جائے ، جس کی ایک اینٹ سونے کی ہو وسری چاندی کی ہو اس میں ایک عالی شان باغ ہو جس میں دنیا کی ہر چیز میسر ہو

 جب وہ شہر ہر لحاظ سے مکمل ہو گیا تو شداد نے ارادہ کیا کہ جا کر اس شہر کا نظارہ کیا جائے

چنانچہ وہ شہر کو دیکھنے نکلا ابھی وہ دروازے تک ہی پہنچا تھا، کہ ملک الموت کو حکم ہوا اور اس نے وہیں اس کی روح قبض کر لی ، اسے اتنا موقع بھی نہ دیا کہ اپنے بے مثال باغ کو ایک نظر دیکھ سکتا

ملک الموت نے کہا کہ اے مولائے کریم اس شخص کی روح قبض کرتے وقت بھی مجھے نہایت ہی صدمہ پہنچا کہ وہ شخص ہر چیز تیار کر کے اسے دیکھ بھی نہ سکا

اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ وہی بچہ ہے جس کی ماں تختہ پر مر گئی تھی اور اس پر تجھے ترس آیا تھا اس بچے نے بڑے ہو کر نافرمانی کی

خدا کے حکم سے بغاوت کی اور سرکشی اختیار کی مگر ہم نے اسے خود ساختہ جنت میں قدم رکھنے کی مہلت بھی نہ دی اور اسے باہر ہی ہلاک کر دیا

اسی جنت کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ دنیا میں موجود ہے مگر انسان کی نظروں سے اوجھل ہے

امیر معاویہ کے زمانے میں ایک صحابی کا اونٹ گم ہو گیا تھا وہ اونٹ کی تلاش میں کہیں اس علاقے میں جا نکلے تو اللہ تعالیٰ نےاُنہیں وہ سب کچھ دکھلا دیا تھا

وہ صحابی وہاں کی کوئی نشانی بھی ساتھ لائے تھے، ان صحابی نے یہ واقعہ امیر معاویہ سے بیان کیا ، انہوں نے کافی تلاش کرایا مگر کسی کو وہ جنت نہیں ملی اور اسے اللہ تعالیٰ نے پوشیدہ رکھا۔

 

If you want to read Urdu Islamic Stories You can read: Urdu Stories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *